نئی دہلی 30 ؍ دسمبر (ایس او نیوز؍ ایجنسی ) طلاق ثلاثہ بل پر جس طرح سے بی جے پی حکومت نے ملک کو دو حصوں میں منقسم کردیا ہے ، اس سے بی جے پی کی نیت کا پتہ چلتا ہے ، لوک سبھا میں گزشتہ جمعہ طلاق ثلاثہ بل پاس کرکے مودی کی قیادت والی بی جے پی حکومت نے ایک طبقے کو یہ بتانے کی کوشش کی کہ ہم نے اپنا کام ایک حد تک پورا کرلیا ہے۔ راجیہ سبھا میں اب سیاسی لیڈروں کی ذمہ داری ہے کہ اسے پاس کریں۔ 31؍ دسمبر بروز پیر لوک سبھا سے پاس شدہ طلاق ثلاثہ بل راجیہ میں پیش کیا جائے گا، جہاں بی جے پی کی اکثریت نہیں ہے۔ مرکزی وزیر قانون روی شنکر پرساد پر شادی شدہ مسلم خواتین کے حقوق کی حفاظت اور ایک بار میں تین طلاق روکنے کے لئے تیار کئے گئے مسلم خواتین ( شادی شدہ حقوق کا تحفظ ) بل 2018ء کے خلاف آواز اٹھائی تھی ۔ سرکار نے گزشتہ جمعرات کو لوک سبھا میں چار گھنٹے کی بحث کے بعد اپوزیشن کے واک آؤٹ کے باوجود یہ بل پیش کرکے پاس کیا تھا،حالانکہ راجیہ سبھا میں حزب اختلاف کی اکثریت ہے اور اس بل کی مخالفت میں حزب اختلاف کے لیڈروں نے حکمت عملی تیار کی ہے ۔ کانگریس کے جنرل سکریٹری کے سی وینو گوپال نے کیرلا میں ہفتہ کے روز کہا کہ کانگریس پارٹی راجیہ سبھا میں موجودہ شکل میں طلاق ثلاثہ بل کوکسی بھی طرح منظور نہیں ہونے دے گی۔ انہوں نے صحافیوں سے کہا کہ کانگریس دیگر پارٹیوں کو ساتھ لے کر طلاق ثلاثہ بل کی موجودہ شکل کے خلاف پرزور مخالفت کرے گی ۔ انہوں نے کہا کہ لوک سبھا میں جب یہ بل پیش کیا گیا تھا۔ 10 ؍ اپوزیشن پارٹیوں نے اس کی کھل کر مخالفت کی تھی۔ کانگریس لیڈر نے کہاکہ انا ڈی ایم کے اور ترنمول کانگریس نے بھی اس بل کی کھل کر مخالفت کی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ یہ بل خواتین کو بے آسرا چھوڑ دے گا، وہیں وزیر قانون روی شنکر پرساد نے کہاکہ سرکار کو تین طلاق بل پر راجیہ سبھا میں سبھی پارٹیوں سے حمایت ملنے کی امید ہے ۔ واضح رہے کہ راجیہ سبھا میں سرکار کے پاس اکثریت نہیں ہے ۔ اسی وجہ سے تین طلاق پر گزشتہ بل وہاں اٹک گیا تھا۔